پالتو جانور سے کسی انسان کو پہنچنے والا نقصان "ناقابلِ ضمانت” جرم قرار دے دیا گیا

پالتو کتوں اور دیگر جانوروں کی دیکھ بھال میں غفلت برتنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی شکنجہ تیارکر لیا گیا، سینیٹ سے منظور شدہ بل کے ذریعے جانوروں کی دیکھ بھال میں لاپرواہی سے کسی شہری کو نقصان پہنچنا  ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ دو سال تک قید اور دو لاکھ جرمانے کی سزائیں بھی ہوں گی۔

پالتو جانوروں کے ذریعے عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار اب جانوروں کے مالک ہوں گے ۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے گزشتہ روز فوجداری قوانین ترمیمی بل دوہزار تئیس سینیٹ میں پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظورکرلیا گیا ۔ اس بل کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو نواسی  میں اہم ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق جانور کے ذریعے انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے پر ایک سے دو سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ قصداً غفلت برتنے پر دو لاکھ روپے اور لاپرواہی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد ہوگا۔ اس بل سے جانوروں کے مالکان کو اپنے پالتو جانوروں کی مناسب نگرانی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پالتو جانوروں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث یہ قانون سازی ناگزیر ہو چکی تھی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے