وزیر اعظم کا دورہ چین، 5 ارب ڈالر کے 100 سے زائد معاہدے ہونگے

وزیراعظم شہباز شریف چینی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی کشیدہ صورتحال پر بات چیت ہو گی، وزیراعظم کے دورہ چین کے موقع پر زراعت، پولٹری، ڈیری فارمنگ، فروٹس اینڈ ویجی ٹیبل پراسیسنگ، اینیمل ویکسین، فشریز، کولڈ چین، فرٹیلائزر، بیج، زرعی ادویات، آئی ٹی، فن ٹیک، ای کامرس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ٹیلی کمیونیکیشن ،انڈسٹریل، سیل فونز و لیپ ٹاپ بیٹریز، الیکٹریکل وہیکل پارٹس، ای وی چارجنگ سٹوریج کے ایم او یوز پر دستخط ہونگے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیرصدارت ہائی لیول کمیٹی قائم کی ہے جو تمام ایم او یوز پر پیشرفت اور عملدرآمد کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لے گی۔

وزیر توانائی، وزیر پٹرولیم، معاون خصوصی صنعت و پیداوار، وزیر آئی ٹی، وزیر فوڈ سکیورٹی و ریسرچ دورہ کے دوران وزیراعظم کے ساتھ ہونگے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان سے نجی شعبے کے لوگ بھی جائیں گے جہاں بزنس ٹو بزنس ایم او یوز سائن ہونگے، 24 مئی کو وزیراعظم بزنس ٹو بزنس ایم او یوز کی دستخط کی تقریب میں شریک ہونگے جبکہ 25 مئی کو بیجنگ میں اہم ملاقاتیں اور میٹنگز شیڈول ہیں،تاہم وزیراعظم 26 مئی کو دورہ چین مکمل کر کے وطن واپس پہنچیں گے۔

دورہ چین کی تیاریوں کے باعث بجٹ پراسس میں تبدیلی ہوئی ہے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش ہونے کا امکان ہے، جبکہ قومی اقتصادی سروے 4 جون کو پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دورہ چین سے واپسی پر نیشنل اکنامک کونسل اجلاس وزیر اعظم کی زیرصدارت 3 جون کو ہو سکتا ہے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک بیوروکریٹ نے بتایا کہ چین کیساتھ بزنس ٹو بزنس جتنے بھی ایم او یوز سائن کیے جائیں گے، پاکستان کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف اور بیجنگ کی جانب سے چین کے صدر فالواپ لیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے