برصغیر کے عظیم پہلوان اور “رستمِ زماں” کے لقب سے شہرت پانے والے گاما پہلوان کی آج 66ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ کشتی کی دنیا میں گاما پہلوان کو ان کی غیر معمولی جسمانی طاقت، شاندار تکنیک اور ناقابلِ شکست ریکارڈ کے باعث عالمی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل رہا۔
گاما پہلوان، جن کا اصل نام غلام حسین تھا، 22 مئی 1878 کو بھارتی شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہوں نے کشتی کے میدان میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور کم عمری میں ہی بڑے بڑے پہلوانوں کو شکست دے کر شہرت حاصل کر لی۔
1910 میں لندن میں منعقدہ عالمی مقابلوں میں انہوں نے مشہور امریکی پہلوان زیبیسکو کو شکست دے کر دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائی اور “رستمِ زماں” کا اعزاز حاصل کیا۔ گاما پہلوان کا شمار دنیا کے ان چند عظیم ایتھلیٹس میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے تقریباً 52 سالہ کیریئر میں کبھی شکست قبول نہیں کی۔
ان کی جسمانی فٹنس، روزانہ کی سخت ورزش اور روایتی دیسی ٹریننگ آج بھی نوجوان پہلوانوں کے لیے مثال سمجھی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ ہزاروں ڈنڈ اور بیٹھکیں لگاتے تھے، جس نے انہیں دنیا کے مضبوط ترین انسانوں میں شامل کر دیا تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد گاما پہلوان لاہور منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ وہ اپنے بھائی امام بخش اور بھولو برادران کے ساتھ کشتی کے فروغ میں بھی سرگرم رہے۔
رستمِ زماں گاما پہلوان 23 مئی 1960 کو لاہور میں انتقال کر گئے، تاہم ان کی شاندار خدمات اور ناقابلِ شکست ریکارڈ آج بھی کشتی کی تاریخ کا سنہری باب سمجھے جاتے ہیں۔
