امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں اور ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی خبر رساں پلیٹ فارم Axios کی رپورٹ کے مطابق، 23 مئی کو ہونے والی ایک کانفرنس کال میں ٹرمپ نے بحرین، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں سے خطاب کیا اور ان سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق اس کال میں قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے نمائندے اس مطالبے پر حیران رہ گئے، کیونکہ ان کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق کال کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی، جس پر ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ کیا وہ سب اب بھی لائن پر موجود ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آنے والے ہفتوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی بات چیت کریں گے۔
ابراہم معاہدے، جو 2020–2021 میں امریکی ثالثی سے طے پائے تھے، کے تحت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے، جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں۔
