رواں مالی سال اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات سامنے آگئے۔ رواں مالی کا سروے رپورٹ 4 جون کو پیش کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی، قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی۔ اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔

گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد، پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی، مالی سال 26-2025 کےدوران چاول کی پیداوارمیں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا۔

گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ، پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا، مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی، کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا۔ کپاس کی پیداوار میں 0.5 فیصد کمی، کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگرفصلوں میں 2.4 فیصد نمو، چنےکی پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔ ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد جبکہ مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی۔

لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی

دستاویز کے مطابق رواں مالی سال گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ خچروں کی تعداد 1.8 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 21 ہزار ہوگئی، گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ، تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی۔

ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی، سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، 3.8 فیصد اضافہ ہوا۔

بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی، سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا، بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ، مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزارہوگئی۔ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے نے 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے