جنگ مسئلہ حل نہیں کر سکتی، لبنان اور اسرائیل کو بات چیت کی میز پر آنا ہوگا: صدر جوزف عون

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے بجائے مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی حل خطے کو تحفظ اور استحکام فراہم نہیں کر سکتا۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں لبنانی صدر نے اسرائیلی حکومت اور عوام سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تنازعہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے مطابق لبنان کے عوام امن اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق دار ہیں اور ہر چند سال بعد جنگ اور تباہی کا سامنا نہیں کر سکتے۔

صدر جوزف عون نے کہا کہ لبنان جنگ سے تھک چکا ہے اور وہ امن چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسرائیل کے پاس عسکری طاقت موجود ہے، لیکن صرف فوجی کارروائیوں سے دیرپا حل ممکن نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس وقت تک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے جب تک کسی باقاعدہ معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ مکمل امن کے بجائے ایک غیر جارحیت (non-aggression) سمجھوتے کی شکل میں ہو سکتا ہے۔

لبنانی صدر نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، کیونکہ موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے صرف تباہی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوتا ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے