ٹرمپ کی وارننگ کے بعد ایران میں امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع، مذاکراتی عمل غیر یقینی کا شکار

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی افواج نے ایران میں متعدد اہداف کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے شام 5:15 بجے (مشرقی امریکی وقت) ایران کے مختلف اہداف کے خلاف اضافی حملے شروع کیے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں "ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی حالیہ سرگرمیوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کو صرف "ایک دستاویز پر دستخط” کرنا ہوں گے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی واضح کیا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے