بجٹ پیش کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا، بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے ہو گا جبکہ قرضوں پر سود ادا کرنے کیلئے 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائے گی۔
دفاعی بجٹ کیلئے 3 ہزار ارب روپے رکھے جائیں گے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی امکان ہے، پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان مرتب کیا گیا ہے، برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جائے گا۔
بجٹ میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوگا، سابق فاٹا کا ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
