عراق میں مسلح ملیشیاؤں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی مہم تیز، کئی گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان

عراق کی حکومت نے مسلح ملیشیا تنظیموں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ متعدد طاقتور گروہوں نے ہتھیار ڈالنے یا سرکاری سیکیورٹی اداروں میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو عراق میں ریاستی اختیار مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد “ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ” کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف ریاست کو مسلح طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکا بھی عراق میں ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ کئی مسلح گروہوں، جن میں عصائب اہل الحق اور کتائب الامام علی شامل ہیں، نے اپنے ہتھیار ریاستی کنٹرول میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل مقتدیٰ الصدر کے زیر اثر گروپ سرایا السلام بھی اسی نوعیت کا قدم اٹھا چکا ہے۔

عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) 2014 میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری اور سیاسی قوت بن گئی۔ اس فورس کے دو لاکھ سے زائد ارکان اور وسیع معاشی اثر و رسوخ موجود ہیں۔ ناقدین اسے “ریاست کے اندر ریاست” قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کے بعض دھڑوں کے آزاد کمانڈ ڈھانچے اور علاقائی وابستگیاں برقرار ہیں۔

عراقی عوام مجموعی طور پر ملیشیا تنظیموں کے غیر مسلح ہونے کی حمایت کرتے ہیں، تاہم انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ اصلاحات صرف ظاہری تبدیلی ثابت نہ ہوں اور مسلح گروہ نئی حیثیت کے ساتھ مزید مضبوط نہ ہو جائیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب اسلحے پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم ہو اور تمام گروہ قانون کے تابع ہوں۔

بغداد حکومت سیکیورٹی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے، جن میں ایک نئی وفاقی سیکیورٹی وزارت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جو پی ایم ایف اور دیگر فورسز کی نگرانی کرے گی۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ قانون پیش نہیں کیا گیا۔

اگرچہ کچھ گروہ انضمام پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن سخت گیر دھڑوں کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کے مکمل انخلا تک وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سخت نگرانی اور اسلحے پر مکمل ریاستی کنٹرول نہ ہوا تو اصلاحات صرف ملیشیا تنظیموں کو نیا نام دینے تک محدود رہ جائیں گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے