خلیجی ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد شہری وطن کی خاطرجانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران اپنی علاقائی سفارت کاری کو مزید فعال بناتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ موجود متعدد تنازعات اور اختلافی معاملات کے حل کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حالیہ سفارتی کوششیں خطے میں اعتماد سازی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مختلف مقامی میڈیا اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سفارتی میدان میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور فوجی سرگرمیوں کے اثرات سے بعض پڑوسی ممالک متاثر ہوئے، جس پر ایران کو افسوس ہے۔ ان کے بقول خطے میں پائیدار امن اور تعاون کے لیے باہمی احترام اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے جاری داخلی بحث پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ یا مذاکرات سے متعلق حتمی فیصلے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ حکومت اور مذاکراتی ٹیم انہی پالیسی خطوط کے تحت کام کرتی ہے۔

مسعود پزشکیان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف پر ہونے والی تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات کے حساس معاملات پر غیر ضروری سیاسی تقسیم سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مذاکراتی عمل میں شریک افراد کو غدار قرار دینا قومی مفاد کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری میڈیا یا مختلف ٹی وی پروگراموں میں ہونے والی بحث و مباحثہ ضروری نہیں کہ ریاستی پالیسی کی مکمل عکاسی کرتے ہوں۔ ایران میں اہم قومی فیصلے آئینی اور قانونی اداروں کے ذریعے کیے جاتے ہیں اور تمام متعلقہ فریق ان فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں۔

ایرانی صدر کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی منظوری دے رکھی ہے، جس کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بیرونی دباؤ نہیں بلکہ داخلی تقسیم اور سیاسی اختلافات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور مشترکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے