فلسطینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں، سعودی عرب کا اقوامِ متحدہ میں دو ریاستی حل پر زور

اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور تنازعات کی بنیادی وجہ مسئلہ فلسطین ہے اور اس کا دیرپا حل صرف دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنایا جانا چاہیے۔

عبدالعزیز الواصل نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری، زمینوں پر قبضے اور فلسطینی شہریوں کی جبری بے دخلی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا اور عالمی برادری کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

سعودی مندوب نے غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے مزید ضیاع کو روکنے اور متاثرہ آبادی تک امداد کی بلاتعطل فراہمی کے لیے جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی امداد کو سیاسی دباؤ یا کسی بھی قسم کے مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

عبدالعزیز الواصل نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی عوام کو ان کے جائز اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے