چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ اور کینٹربری کی آرچ بشپ سارہ ملالی نے مقدس سرزمین کے دورے کے دوران فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے دو ریاستی حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
یروشلم کے اینگلیکن آرچ بشپ حسام نعوم کے ہمراہ جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں مذہبی رہنماؤں نے دنیا بھر کے اینگلیکن مسیحیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کو عملی شکل دی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں پر جاری قبضے کے خاتمے کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے، جبکہ یروشلم کو دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کی تجویز بھی دہرائی گئی۔
آرچ بشپ سارہ ملالی نے اپنے دورے کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں سے ملاقات کی اور کہا کہ انہوں نے علاقے میں شدید مشکلات، متعدد فوجی چیک پوائنٹس اور روزمرہ زندگی پر عائد پابندیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مطابق غزہ میں صحت کا نظام شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ جاری تنازعات بین الاقوامی قانون کی کمزور ہوتی حیثیت اور طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
مشترکہ خط میں مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، جبری نقل مکانی، امتیازی سلوک اور نئی اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ بیان کے مطابق ان اقدامات نے فلسطینی آبادی کو مزید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
دورے کے دوران آرچ بشپ نے اسرائیلی حراست میں موجود بعض فلسطینی عیسائی خاندانوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے اپنے اہلِ خانہ کی گرفتاریوں اور حالات سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے ایک فلسطینی عیسائی خاندان کے ساتھ زیتون کا درخت بھی لگایا اور اسے مقدس سرزمین میں عیسائی برادری کی تاریخی موجودگی اور امن کی علامت قرار دیا۔
برزیت میں سینٹ پیٹرز چرچ سے خطاب کرتے ہوئے آرچ بشپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک مقبوضہ سرزمین میں زندگی بسر کرتے تھے، اس لیے آج کے فلسطینیوں کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فلسطینی عوام کو امن، آزادی اور باوقار زندگی کا حق حاصل ہوگا۔
