جنوبی کوریا: سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے پر 7 سال قید، بھاری جرمانہ بھی عائد

جنوبی کوریا میں سابق صدر یون سک یول کے بعد ان کی اہلیہ اور سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو بھی بدعنوانی کے ایک بڑے مقدمے میں سزا سنا دی گئی ہے۔ سیئول کی ایک عدالت نے انہیں قیمتی تحائف بطور رشوت وصول کرنے اور اپنے سرکاری اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 7 سال قید اور 32 ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کم کیون ہی نے خاتونِ اول کی حیثیت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا اور مختلف افراد کو سرکاری ملازمتیں، پارلیمانی عہدے اور کاروباری سہولتیں دلوانے کے بدلے مہنگے تحائف وصول کیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر کی اہلیہ جیسے اعلیٰ عوامی منصب سے وابستہ شخصیت سے غیر معمولی احتیاط، شفافیت اور خود احتسابی کی توقع کی جاتی ہے، تاہم ملزمہ نے اس اعتماد کو مجروح کرتے ہوئے بارہا قیمتی تحائف قبول کیے، جس سے عوام کا ریاستی اداروں اور تقرریوں کے منصفانہ نظام پر اعتماد متاثر ہوا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کم کیون ہی نے اپنے شوہر کے دورِ صدارت میں دنیا کے معروف برانڈز کے قیمتی تحائف وصول کیے، جن میں Van Cleef & Arpels کا ہیرے کا ہار، Tiffany & Co. کا بروچ، Dior کا لگژری ہینڈ بیگ، Graff کے ہیروں کے زیورات، سونے کے کچھوے کے مجسمے کا خصوصی کیس، معروف کوریائی مصور Lee Ufan کی پینٹنگ اور تقریباً 19 ہزار پاؤنڈ مالیت کی Vacheron Constantin گھڑی شامل ہیں۔

استغاثہ کے مطابق ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک نے اپنے داماد کو سرکاری عہدہ دلوانے کے لیے قیمتی تحائف دیے، جبکہ ایک مذہبی رہنما نے اعلیٰ حکومتی شخصیات تک رسائی حاصل کرنے کی غرض سے تحائف پیش کیے۔ اسی طرح ایک روبوٹکس کمپنی کے سربراہ نے صدارتی سکیورٹی اداروں کے ساتھ کاروباری معاہدے حاصل کرنے کے لیے مہنگے تحائف دیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے