اداکارہ مومنہ اقبال نے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں ایک بار پھر توسیع کے بعد قانونی کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدالتی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
لاہور کی سیشن عدالت نے جمعرات کو کیس کی سماعت کے دوران ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت میں 13 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے دونوں کو تحقیقات میں شامل ہونے کی ہدایت کی۔ عدالت نے استغاثہ سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔
عدالتی کارروائی کے بعد مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں، کسی کا نام لیے بغیر، لکھا کہ پہلے انہیں لگتا تھا کہ اثر و رسوخ صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے قانونی نمائندوں کو متعدد مواقع پر ہراساں کیا گیا، ان کا تعاقب کیا گیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا عام شہریوں کے مقدمات بھی اسی انداز میں چلائے جاتے ہیں یا صرف بااثر افراد کو بار بار تاریخیں اور قانونی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
یہ معاملہ مئی 2026 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
بعد ازاں انہوں نے اپنی درخواست میں ثاقب چدھڑ کا نام لیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد انہیں، ان کے منگیتر اور ان کی بہن کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے۔
یاد رہے کہ 4 جون 2026 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ثاقب چدھڑ کے خلاف سائبر کرائم اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ انہیں اگلے روز 5 جون کو عبوری قبل از گرفتاری ضمانت مل گئی تھی، جس میں بعد ازاں متعدد مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔
کیس کی آئندہ سماعت 13 جولائی کو متوقع ہے، جہاں عدالت تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
