ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات

حکومت پنجاب کی جانب سے ستھرا پنجاب منصوبہ 3 دسمبر 2024 کو شروع کیا گیا تھا جس کیلئے ابتدائی طور پر 120 ارب روپے رکھے گئے تھے، 26-2025 کے بجٹ میں یہ رقم بڑھا کر 150 ارب جبکہ 27-2026 میں 170 ارب روپے کر دی گئی۔

حکومت کے مطابق یہ رقم ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو جدید بنانے، دیہی و شہری علاقوں میں کچرا اٹھانے کا نظام مزید موثر بنانے، پراجیکٹ میں استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ کے فیول، مشینری کی دیکھ بھال اور ورکرز کی تنخواہوں پر خرچ کی جاتی ہے۔

تاہم ستھرا پنجاب پراجیکٹ میں مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی و غیر منصفانہ کٹوتی کی متعدد شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

7 جون 2026 کو امپیرئل ویسٹ مینجمنٹ کمپنی گوجرانوالہ کے دفتر میں ایک نوجوان نے ریسپشن کے سامنے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، دفتر میں موجود افراد نے آگ بجھائی مگر اس دوران یہ نوجوان بری طرح جھلس گیا، ذیشان نامی اس نوجوان کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 20 روز زیر علاج رہنے کے بعد وہ دم توڑ گیا۔

خودکشی کرنے والا ذیشان کچھ ماہ پہلے تک گوجرانوالہ میں ستھرا پنجاب پراجیکٹ کی ٹھیکیدار کمپنی امپیرئل ویسٹ منیجمنٹ میں کام کر رہا تھا، ٹھیکیدار اس کی تنخواہ میں سے 21 ہزار روپے کٹوتی کر لیتا تھا اور اسے صرف 19 ہزار روپے ملتے تھے۔

ذیشان کے بھائی کا کہنا تھا کہ ذیشان کو پوری تنخواہ کے مطالبے پر نوکری سے نکال دیا گیا، ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اس نے خودکشی جیسا قدم اٹھایا۔

تنخواہوں میں غیر منصفانہ کٹوتی کا شکار صرف ذیشان ہی نہیں بلکہ اس جیسے کئی ورکرز کے ساتھ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، حکومت پنجاب نے ستھرا پنجاب کمپنی کے ملازمین کو صوبے میں مقرر کردہ کم از کم تنخواہ ادا کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے اور اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔

سب سے پہلے تو ملازمین کی تنخواہ سے سوشل سکیورٹی کی مد میں پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں جبکہ بیشتر کمپنیاں خود سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں اور سوشل سکیورٹی فیس جمع نہیں کرواتیں۔

اس کے علاوہ ملازمین کو ہر ماہ میں ہفتہ وار 4 چھٹیوں کے پیسے بھی نہیں دیئے جاتے، اس کے علاوہ پرفارمنس اچھی نہ ہونے اور دیر سے آنے کا کہہ کر بھی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جاتی ہے، یوں ملازمین کو کاغذوں میں تو پوری تنخواہ ملتی ہے مگر وہ ہر ماہ آدھی سے بھی کم تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں، اس سسٹم کے مطابق ٹھیکیدار ملازمین کی تنخواہ حکومت سے وصول کرتا ہے اور پھر ورکرز کو اپنی مرضی سے ادائیگیاں کرتا ہے، اسی وجہ سے ورکرز کو بروقت اور پوری تنخواہ نہیں مل پاتی۔

ملتان میں ستھرا پنجاب منصوبے کے ورکرز 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، سی ای او ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مطابق ستھرا پنجاب کمپنی کے مستقل 1855 ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کو وہ خود مانیٹر کرتے ہیں جبکہ 11780 کنٹریکٹ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کی ذمہ داری ان کو بھرتی کرنے والے ٹھیکیداروں کی ہے۔

گجرات سے بھی ستھرا پنجاب پراجیکٹ کے ورکرز نے اوور ٹائم، بونس نہ ملنے، تنخواہ میں کٹوتی اور بروقت تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کیا ہے۔

بہاولپور کے ستھرا پنجاب ورکرز کے مطابق انہیں کٹوتی کے بعد کبھی 20 ہزار تو کبھی 15 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، منڈی بہاوالدین کے ستھرا پنجاب ورکرز نے بھی بروقت اور پوری تنخواہ نہ ملنے کا شکوہ کیا، فیصل آباد کے ستھرا پنجاب ورکرز نے تنخواہوں میں کٹوتی اور ڈیڑھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔

اس کے علاوہ گوجرانوالہ کے ستھرا پنجاب ورکرز نے 40 ہزار کے بجائے 20 سے 25 ہزار تنخواہ ملنے اور تاخیر سے ملنے کا شکوہ کیا ہے۔

مختلف شہروں میں ستھرا پنجاب ورکرز تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور غیر منصفانہ کٹوتی پر کئی بار احتجاج کر چکے ہیں، 24 اپریل 2026 کو تحصیل پاکپتن میں ستھرا پنجاب کی ٹھیکیدار کیگلک اینڈ کمپنی کے ورکرز نے 2 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کیا۔

حویلی لکھا میں ورکرز نے بھی 2 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کیا، 29 اپریل کو اوکاڑہ اور فیصل آباد میں ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کیا، مئی میں بھی فیصل آباد کے ستھرا پنجاب ورکرز نے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کیا اور بطور احتجاج کوڑا سڑکوں پر بکھیر دیا،

اس کے علاوہ ڈجکوٹ، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، اوکاڑہ، سرگودھا اور لاہور سمیت پنجاب بھر میں ستھرا پنجاب کے ورکرز نے تنخواہیں نہ ملنے اور عید پر اعلان کردہ بونس کی عدم ادائیگی کے خلاف یکم جولائی کو احتجاج کیا۔

حکومت پنجاب کے مطابق اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جا رہا ہے اور اس ماڈل میں تحصیل اور میونسپل لیول پر پرائیویٹ کمپنیز کو سالڈ ویسٹ کولیکشن کے ٹھیکے دے رکھے ہیں تاہم ٹھیکیداری کے اس نظام میں شفافیت کا فقدان ہے اور آئے روز کرپشن کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

مئی 2026 میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے فیصل آباد اور تاندلیانوالہ میں ستھرا پنجاب منصوبے میں ایک ارب روپے کرپشن کو بے نقاب کیا، ایف آئی آر کے مطابق ستھرا پنجاب منصوبے کی ٹھیکیدار کمپنی کیئرز کنسورشیم نے نومبر 2024 سے اپریل 2026 تک ڈیجیٹل پورٹل میں غلط انٹریز اور جعلی ڈیٹا فیڈ کر کے ایک ارب روپے رقم خردبرد کی، رقم لینے کیلئے کیئرز کنسورشیم نے گھوسٹ سٹاف اور جعلی ویسٹ سائٹس کی انٹریز کیں۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کمپنی نے 633 جعلی ملازمین ظاہر کر کے ان کی تنخواہ وصول کی، ڈیجیٹل ریکارڈ کے مطابق کچرہ اکٹھا کرنے کیلئے شہری اور دیہاتی علاقوں میں 2317 کنٹینرز رکھے گئے مگر اصل میں صرف 1717 کنٹنیرز موجود پائے گئے، یعنی 600 کنٹیئرز کی تنصیب اور کچرہ اٹھانے کے نام پر اضافی پیسے لیے جاتے رہے۔

اسی طرح پورے علاقےکا کچرہ اکٹھا رکھنے کیلئے 118 ویسٹ انکلوئیرز بنانے کا دعویٰ کیا گیا مگر اصل میں صرف 33 انکلوئیرز ہی بنائے گئے، کچرہ اٹھانے والی گاڑیوں کے روٹس اور مائلیج سے متعلق ڈیٹا میں بھی گڑبڑ کر کے حکومت سے زیادہ رقم وصول کی گئی، یہ پنجاب بھر میں کام کرنے والی تقریباً 140 پرائیویٹ کمپنیوں میں سے ایک کی کرپشن کہانی ہے۔

اگرچہ ستھرا پنجاب منصوبے کا مقصد عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا، مگر ٹھیکیداری نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، مالی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات اور ورکرز کے استحصال نے اس منصوبے کی شفافیت اور افادیت پر سوالات اٹھا دیئےہیں، اگر پنجاب حکومت نے بروقت اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے اس نظام میں احتساب، شفافیت اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہ بنایا، تو خدشہ ہے کہ ذیشان کی خودکشی جیسے المناک واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے