مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام نے بعض علاقوں میں جاری ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے حملے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم واقعے کو خطے میں جاری کشیدگی کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ ٹینکر طیارے تعینات تھے، جنہوں نے حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد سعودی حکام نے الخرج اور ینبع کے علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر حفاظتی وارننگ جاری کی۔ بعد ازاں سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ دونوں شہروں کو لاحق خطرات ٹل گئے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ادھر کویتی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں ملک کے ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹ کو نقصان پہنچا، جہاں آگ بھی بھڑک اٹھی۔ متعلقہ اداروں نے آگ پر قابو پانے اور تنصیبات کی بحالی کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
