ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں جنگ یا امن کے تمام حتمی فیصلوں کا اختیار صرف اور صرف سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔ گزشتہ آٹھ دنوں سے جاری امریکی فضائی حملوں اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی کے حکم کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ عسکری اور سیاسی قیادت کی متفقہ رائے سے ہوا تھا، اور یہ تمام فیصلے ملکی آئین کے مطابق ‘سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل’ کی مشاورت سے کیے گئے تھے۔
بین الاقوامی سطح پر اسلام آباد، سوئٹزرلینڈ اور عمان میں ہونے والے اہم ترین سفارتی مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کرنے والے عباس عراقچی نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے اور فوجی کارروائیوں کی مسلسل دھمکیوں کے بعد ایران نے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سفارتی اقدام کا مقصد دنیا پر یہ واضح کرنا تھا کہ تہران نے پُرامن حل اور سفارتی آپشن کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے ان افواہوں اور تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ وہ سپریم لیڈر کے بہت قریب ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا قریبی ہونے کا تاثر غلط ہے، میری ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ ایران کے مروجہ پروٹوکول کے مطابق صرف چند مخصوص لوگوں کو ہی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملنے کی اجازت ہے۔
