امریکا ایران جنگ کے اثرات، عالمی منڈی میں تیل 92 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچ گیا

لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں ایک ڈالر یا 1.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 92.01 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 82 سینٹ یا تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 85.16 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ منگل کو برینٹ خام تیل 91.01 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 84.91 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں ہیں۔ امریکی افواج کی جانب سے جنوبی اور مغربی ایران میں حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں نے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں کمی نہ آئی تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی توانائی کی دیگر منڈیوں میں بھی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے