امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آئندہ چند روز میں سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے تعاون سے متعلق ایک اہم معاہدہ امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں وہ روایتی عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) تحفظات شامل نہیں جو ماضی میں امریکہ جوہری مواد کو ہتھیاروں کے پروگراموں میں استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا رہا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے دو باخبر ذرائع کے مطابق کانگریس کو پیش کی جانے والی دستاویز "123 معاہدہ” (123 Agreement) کہلاتی ہے، جس پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیے ہیں۔ دونوں ممالک گزشتہ سال ریاض میں اس تعاون کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ بھی طے کر چکے تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس سے سعودی عرب کے لیے مستقبل میں یورینیم کی افزودگی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
