پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق دوماہ کے دوران بارشوں کے باعث چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آسمانی بجلی، دیواریں اور چھتیں گرنے سے 13 بچوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 41 گھروں کو نقصان پہنچا، سب سے زیادہ خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل تباہ، جبکہ 24 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے متعدد حادثات پیش آئے، جن کے نتیجے میں 28 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث مجموعی طور پر 47 مکانات متاثر ہوئے، جن میں 10 مکمل طور پر منہدم جبکہ 37 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی اور لوئر چترال کے اضلاع میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
