امریکی عدالت نے متنازعہ مصنف سلمان رشدی کے حملہ آور کو قصوروار ٹھہرا دیا، نومبر میں سزا سنائی جائے گی

متنازعہ برطانوی نژاد مصنف سلمان رشدی پر 2022 میں چاقو سے حملہ کرنے والے ہادی مطر کو امریکی وفاقی عدالت نے دہشت گردی سے متعلق تمام الزامات میں قصوروار قرار دے دیا۔

امریکی وفاقی استغاثہ کے مطابق 28 سالہ ہادی مطر کو لبنان کی ایران نواز تنظیم حزب اللہ کو مادی معاونت فراہم کرنے کی کوشش، بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونے اور دہشت گرد تنظیم کو مادی مدد فراہم کرنے کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا۔

یہ فیصلہ بفیلو، نیویارک کی امریکی ضلعی عدالت کی جیوری نے تقریباً دو گھنٹے کی مشاورت کے بعد سنایا۔ مقدمے کی سماعت گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی اور جیوری نے تمام وفاقی الزامات پر ہادی مطر کو قصوروار قرار دیا۔

79 سالہ سلمان رشدی 2022 میں چاٹاکوا انسٹیٹیوشن (Chautauqua Institution) میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ہادی مطر نے اسٹیج پر چڑھ کر ان پر متعدد بار چاقو سے حملہ کیا۔ حملے میں رشدی کے سر، گردن، دھڑ اور بائیں ہاتھ پر شدید زخم آئے جبکہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہوئی۔ انہیں فوری طور پر ہنگامی سرجری اور کئی ماہ پر محیط علاج سے گزرنا پڑا۔

عدالتی کارروائی کے دوران پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ہادی مطر نے حملے سے قبل ایک سال سے زائد عرصے تک 1989 میں جاری ہونے والے فتویٰ سے متعلق تحقیق کی اور پھر سلمان رشدی پر حملہ کیا۔

سلمان رشدی کو 1988 میں شائع ہونے والے ان کے ناول "The Satanic Verses” کے بعد شدید تنازعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کتاب کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے رشدی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے بعد سے انہیں مسلسل سکیورٹی خدشات لاحق رہے۔

ہادی مطر کو 2025 میں نیویارک کی ریاستی عدالت بھی سلمان رشدی کے قتل کی کوشش کے مقدمے میں مجرم قرار دے چکی ہے، جہاں اسے 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

وفاقی دہشت گردی کے مقدمے میں ہادی مطر کو عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ سزا سنانے کے لیے عدالت نے 3 نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے