لبنان، شام اور غزہ میں غیر معینہ مدت تک فوجی موجودگی برقرار رہے گی، اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیلی وزیر دفاع Yisrael Katz نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ کے ان علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی جہاں اسے سکیورٹی مقاصد کے تحت تعینات کیا گیا ہے، اور یہ موجودگی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھی جائے گی۔

عرب میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے ساتھ مل کر ایک واضح سکیورٹی پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت اسرائیلی فوج سرحدی بستیوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے لبنان، شام اور غزہ کے مخصوص سکیورٹی زونز میں تعینات رہے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں موجود مبینہ عسکری ڈھانچوں کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا اور سرحدی علاقوں میں ایسے تمام مراکز ختم کیے جائیں گے جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ کاٹز کے مطابق یہ حکمت عملی مستقبل میں ممکنہ حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی یا علاقائی دباؤ کے باوجود جنوبی لبنان سمیت دیگر سکیورٹی علاقوں سے فوجی انخلا پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مؤقف امریکی حکام کو بھی واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

کاٹز نے مزید انکشاف کیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ رابطوں کے دوران امریکی صدر Donald Trump کو بھی اسرائیل کی اس پالیسی سے آگاہ کیا ہے، جبکہ امریکی وزیر دفاع سے ہونے والی بات چیت میں بھی یہی مؤقف دہرایا گیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے ملکی اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت یا رہنما سکیورٹی زونز سے فوجی انخلا کی حمایت کرتا ہے تو اسے عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے تاکہ شہری مختلف پالیسیوں کا موازنہ کر سکیں۔

ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے لبنان یا کسی اور محاذ سے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اسرائیل بھرپور اور سخت جواب دے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے