ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ دونوں ممالک جلد کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکی اہلکار کے مطابق ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی اور تیل کی معمول کی ترسیل بحال ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اہلکار نے، جس نے شناخت ظاہر نہیں کی، کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت جاری ہے اور واشنگٹن کو جلد معاہدے کی توقع ہے۔
اہلکار کے مطابق اگر دونوں ممالک ایسا معاہدہ کرتے ہیں جس کے تحت تجارتی جہاز رانی بغیر کسی رکاوٹ کے بحال ہو جاتی ہے تو امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط رہیں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ہر پانچ بیرل تیل میں سے تقریباً ایک بیرل اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
