امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے متوقع معاہدے کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر سکتا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات میں ایک عبوری انتظام پر بات چیت ہوئی ہے۔
اس معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا ہے۔
اس کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں جوہری معاہدے پر مذاکرات کی بحالی بھی اس عمل کا حصہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار حتمی منظوری کے منتظر ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اصولی طور پر مجوزہ انتظام سے اتفاق کیا ہے۔
تاہم معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔
اس لیے معاہدے کو ابھی حتمی قرار نہیں دیا گیا۔
امریکا ایرانی پابندیاں ختم کر سکتا ہے
امریکی حکام کے مطابق معاہدہ طے پانے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت بحال ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنے پر آمادہ ہے۔
تاہم امریکی اقدامات ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط ہوں گے۔
آبنائے ہرمز میں 60 روزہ عبوری انتظام
زیرِ غور منصوبے کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں 60 روزہ عارضی انتظام قائم کر سکتے ہیں۔
اس انتظام میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے تحت بحری آمدورفت کے لیے مختلف گزرگاہیں استعمال کی جائیں گی۔
معاہدے کی اہم تجاویز
- خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہاز شمالی گزرگاہ استعمال کریں گے۔
- شمالی گزرگاہ ایرانی پانیوں سے گزرے گی۔
- بحیرہ عرب کی جانب جانے والے بحری جہاز جنوبی گزرگاہ استعمال کریں گے۔
- جنوبی گزرگاہ عمانی پانیوں سے گزرے گی۔
- بحری آمدورفت کا انتظام ایران کے ساتھ رابطے میں کیا جائے گا۔
- 60 روزہ عبوری مدت میں کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
- فریقین 30 دن کے اندر آبنائے کی درمیانی گزرگاہ سے بحری سرنگیں صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔
- درمیانی گزرگاہ صاف ہونے کے بعد اسے آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق درمیانی گزرگاہ بحال ہونے کے بعد بحری جہازوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اس مرحلے پر ایران اور عمان کے درمیان مستقل انتظام کی شرائط لاگو ہوں گی۔
اس طرح 60 روزہ عبوری انتظام کو مستقل بحری انتظام کی جانب ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ساتھ دیگر علاقائی ممالک بھی سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔
علاقائی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور عالمی تجارتی بحری راستے کو محفوظ بنانا ہے۔
