سینئر رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک چلانے والوں نے یقین کرلیا کہ پاکستان کو بچانے،چلانے کےلیے انتظامی یونٹس لازم وملزوم ہیں۔ ایک وفاق اور 4 صوبوں کا نظام ختم ہونا چاہیے۔
کراچی میں جلسے سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئینی ترمیم کو نہیں مانا گیا تو صوبے کے نام پر تمام تحاریک کی حمایت کریں گے، جب بھی حقوق دینے کی بات ہوتی ہے تو پیپلزپارٹی بلیک میلنگ کرناشروع کردیتی ہے، ملک چلانے والوں نے یقین کرلیا کہ پاکستان کو بچانے کےلیے انتظامی یونٹس لازم ہیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ یا تو پاکستان کو بچالیں یا پھر کسی کی ناراضگی کو دیکھ لیں، آج ملک میں وہ وقت آگیا ہے آپ کو ایک جماعت کی ناراضگی کو پیچھے رکھ کرملک کوچلانے والاسسٹم اپنانا ہوگا۔ آج26کروڑ کی آبادی ہوگئی ہے اور وہی 4 صوبے ہیں، ایک وفاق اور 4 صوبوں کا نظام ختم ہونا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے 7ڈویژن ہیں ان کو ہم ایڈمنسٹریٹر یونٹ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہی ڈویژن کو ایڈمنسٹریٹر یونٹ کا درجہ دیا جائے،22ہزارارب روپے اب سندھ میں 7 وزرائےاعلیٰ کے پاس آئیں گے۔ اگلی جشن آزادی سے پہلے ہم سب آزاد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت میں شامل ہونے کےلیے ایک نکاتی ایجنڈا دیاتھا، چاہتے تھے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبے سے اختیارات یوسی کومنتقل کیے جائیں، ساری سیاسی پارٹیاں تیارہوگئی تھی لیکن پیپلزپارٹی نےاسےمستردکردیا، پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کو کہا اگرایم کیوایم کی آئینی ترمیم آئی توآپ کا ساتھ چھوڑدیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم نے صوبوں کو ان کا حق اور پیسہ دے دیا، اب وزیراعظم آکرگٹرکےڈھکن،پانی،صحت،تعلیم تو نہیں دے گا، وزیراعظم اور فیلڈمارشل سرمایہ کاری لے کر آرہے ہیں،معاہدےکررہےہیں، آج دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مان رہی ہے،ہم سعودی اور ترکیہ سےدفاعی معاہدے کررہے ہیں۔
