امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور ایک سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کارروائی سے متعلق ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے آئی سی سی کے حکام پر امریکی مفادات کے خلاف کارروائی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ آئی سی سی کی صدر جج توموکو اکانے اور سینئر پراسیکیوٹر عبداللہ نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ان افراد نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔ روبیو نے کہا کہ آئی سی سی کے ان عہدیداروں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی درخواست میں کردار ادا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے عدالت کے اقدامات پر سخت اعتراض بھی کیا۔
عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔ یہ معاملہ اسرائیل اور غزہ جنگ سے متعلق مبینہ جرائم کے الزامات سے جڑا ہوا ہے۔ امریکا نے طویل عرصے سے آئی سی سی کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ عدالت کو امریکی شہریوں اور بعض دیگر افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
