جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ حملے میں 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔ حملے میں 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے شہری پولیس کے مرکز کو نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والوں میں خواتین پولیس کی سربراہ بھی شامل ہیں۔
حملے میں کرنل فاتنہ السحار بھی شہید ہوگئیں۔ وہ خواتین پولیس کی سربراہ تھیں۔ اس حملے میں 8 دیگر پولیس افسران بھی شہید ہوئے۔ ایک 13 سالہ فلسطینی بچی بھی حملے کی زد میں آکر جاں بحق ہوئی۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت نے اسرائیل پر پولیس فورس کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ بیان میں کہا گیا کہ پولیس اہلکار شہریوں کی حفاظت کررہے تھے۔ وہ جنگ کے دوران بنیادی نظم و نسق برقرار رکھنے کی کوشش بھی کررہے تھے۔ وزارت کے مطابق پولیس کو نشانہ بنانے سے غزہ میں بدامنی بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حملے کی مختلف وجہ بیان کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد اسرائیل اور یہودی آبادکاروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ اسرائیلی حکام غزہ کی پولیس فورس کے بعض ارکان کو حماس سے وابستہ قرار دیتے رہے ہیں۔ فلسطینی حکام اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کا بنیادی کام شہری نظم و نسق برقرار رکھنا ہے۔
