بانی پی ٹی آئی کو شفاء کی بجائے پمز لے گئے، وہاں بھی ضروری علاج نہیں کیا گیا: بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری کوششوں پر پانی ڈالا گیا، اگر بانی کا شفا میں علاج ہو جاتا تو بہت اچھا ہو جاتا، میں مایوس نہیں ہوں، کوششیں دوبارہ کروں گا، رابطے نہیں چھوڑا کرتے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست اور بیان بازی نہیں ہونی چاہئے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفاء کی بجائے پمز لے گئے، وہاں بھی وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا، سپریم کورٹ کے حکم پر آج بھی عمل ہو سکتا ہے، اگر سننے والے سن رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری پٹیشن پر نمبر لگ گیا ہے، ہم نے جلد سماعت کی بھی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن اب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، عوامی مسائل اجاگر اور حکومت کا احتساب کریں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی، نہ ایسا کہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ایک بہن نے بات ضرور کی جس میں بتایا کہ انہیں پمز لے جایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی ہے، یہ سول توہین عدالت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے گزشتہ منگل ہونے والی ملاقات پر نورین نیازی خوش تھیں، ہمارے لیے بانی کی صحت اور سکیورٹی اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے