پاکستان کو بحری منصوبوں کے لیے چھے سے نو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ٹھوس تجاویز موصول ہوئی ہیں، وزیر برائے بحری امور نے منگل کو کہا جیسا کہ ملک آبنائے ہرمز کی رکاوٹوں کے باعث جہازرانی کی بڑھتی ہوئی آمدورفت کو ایک طویل مدتی تجارتی موقع میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے ممالک کو متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کی آبنائے سے جغرافیائی قربت نے تجارتی نقل و حمل کا رخ جنوبی ایشیائی ملک کی طرف موڑ دیا ہے اور ملک کے بحری شعبے نے جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں تقریباً 110 بلین روپے منافع کمایا ہے۔
بحری امور کے وزیر جنید انور چوہدری نے عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "ہماری بحری سرمایہ کاری کی موجودہ پائپ لائن تقریباً چھے سے نو بلین امریکی ڈالرز پر مشتمل ہے جس میں کثیر المقاصد کارگو ٹرمینل، سی ٹو سٹیل اور میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس، ایل این جی اور آئل ٹرمینلز اور کنٹینر ٹرمینلز شامل ہیں”۔
وزیر نے کہا کہ حکومتی اصلاحات عارضی بحرانوں کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا، "ہمارا مقصد جہازوں کی آمدورفت میں حالیہ اضافے کو طویل مدتی تجارتی فائدہ میں تبدیل کرنا ہے نہ کہ آبنائے ہرمز کی رکاوٹوں سے عارضی فائدہ لینا۔ شپنگ لائن کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے: پاکستان کو بحران کے وقت کا متبادل نہیں بلکہ ایک مستقل علاقائی سمندری مرکز ہونا چاہیے۔”
پاکستان نے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر ٹرانس شپمنٹ چارجز میں کمی متعارف کروائی ہے جبکہ وہ کیپٹل ڈریجنگ پروجیکٹس کے ذریعے بڑے جہازوں کو بندرگاہوں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا چاہتا ہے۔
حکومت کے وسیع تر میری ٹائم ڈیولپمنٹ پروگرام میں لاجسٹک پارکس، معدنی ٹرمینلز، کروز اور فیری سروسز، جہاز سے جہاز سامان کی منتقلی کی صلاحیتوں اور نئے جہازوں کی شمولیت کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔
چوہدری نے کہا، "ہمارا مقصد صرف جی ڈی پی میں سیکٹر کا حصہ بڑھانا نہیں بلکہ بحری سرگرمیوں کو غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بنانا ہے جو بالآخر 2047 تک 100 بلین ڈالر کی سمندری معیشت فراہم کرے گا”۔
ماہی گیری اور ‘نیلی معیشت’
ماہی پروری کو پاکستان کی "نیلی معیشت” کے بڑھتے ہوئے جزو کے طور پر نمایاں کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ملک کی سمندری برآمدات گذشتہ مالی سال میں ریکارڈ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
چوہدری کے مطابق پاکستان ماہی گیری کی برآمدات میں ایک بلین ڈالر کا ہدف مقرر کر رہا ہے۔
اس شعبے میں سولہ نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئی ہیں جبکہ پاکستان نے گہرے سمندر میں ماہی گیری کے 32 نئے لائسنس جاری کیے ہیں۔
چوہدری نے کہا، پاکستان سرمایہ کاروں، بندرگاہوں کے صارفین اور برآمد کنندگان کے لیے فزیکل اور ڈیجیٹل رسائی کے ساتھ ون ونڈو سہولت قائم کر رہا ہے جو بحری شعبے کو مزید مؤثر اور سرمایہ کار دوست بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم میری بحری شعبے کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے 2047 کا انتظار نہیں کر رہے۔ پاکستان سنگل ونڈو اور پورٹ کمیونٹی سسٹم پہلے ہی متعارف ہو چکا ہے جو بندرگاہوں، ٹرمینلز اور شپنگ لائنز کو مربوط اور وقت کم کرنے اور شفافیت کو بہتر بنانے میں مدد کر رہا ہے۔”
