بھارتی ریاست کرناٹک کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر بساواراج رایاریڈی کے بیان پر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ وزیر نے ایک نجی تقریب سے خطاب میں اسلام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلام کو عظیم اور انسانیت پر مبنی مذہب قرار دیا۔ بساواراج رایاریڈی نے کہا کہ اسلام سائنس پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق اسلام لوگوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔
وزیر نے کہا کہ اسلام کے بارے میں معلومات نہ رکھنے والے افراد غلط مفروضے قائم کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو دیگر مذاہب سے برتر قرار دیا۔ ان کے مطابق اسلام کی بنیاد انسانیت پر قائم ہے۔ بساواراج رایاریڈی نے اپنے مطالعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابراہیمی مذاہب کا وسیع مطالعہ نہیں کیا۔ وزیر کے مطابق وہ مختلف مذاہب اور تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ابراہیمی مذاہب کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر کے بیان پر شدید احتجاج کیا ہے۔ بی جے پی کرناٹک کے صدر آر اشوک نے بیان کو ہندو مذہب کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے جواب طلب کیا ہے۔ آر اشوک نے وزیر پر مذہبی مقامات کے بارے میں بھی توہین آمیز گفتگو کا الزام لگایا۔
آر اشوک نے بساواراج رایاریڈی سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کو کرناٹک کے ہندوؤں سے معافی مانگنی چاہیے۔ بصورت دیگر وزیر اعلیٰ انہیں کابینہ سے برطرف کریں۔ بی جے پی رہنما نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسے بیانات پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ آر اشوک نے وزیر اعلیٰ کے مندروں کے دوروں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ان دوروں کو سیاسی دکھاوا قرار دیا۔
