سندھ اسمبلی میں دوسرے روز بھی سیاسی محاذ آرائی عروج پر رہی، پیپلزپارٹی نے نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت میں دو ٹوک مؤقف اختیار کیا تو ایم کیو ایم نے نئے انتظامی یونٹس کو سندھ کے مسائل کا واحد حل قرار دے دیا۔ سید ناصر حسین شاہ بولے پاکستان کی مضبوطی کے لئے سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔
سپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سندھ کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کے خلاف پیش کی گئی تحریک التواء پر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان ایک بار پھر آمنے سامنے رہے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت میں بھرپور دلائل دیے جبکہ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا سندھ کی تقسیم پر ان کے ماضی کا مؤقف بھی ایوان میں سنایا اور کہا کہ پاکستان کی مضبوطی کے لئے سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ ایم کیو ایم نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کے عوام کے مسائل کا حل قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ انتظامی تقسیم کے بغیر شہری مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔اجلاس میں نئے انتظامی یونٹس کی حمایت و مخالفت حکومت اور اپوزیشن ارکان کی بحث جاری تھی کہ اسپیکر نے اجلاس ملتوی اور مزید بحث تیسرے روز بھی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
