پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچوں کی اموات کا معاملہ فوجداری تحقیقات اور عدالتی کارروائی تک پہنچ گیا۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی سے چودہ نوزائیدہ بچوں کی اموات پر فوجداری تحقیقات کا آغاز ہوگیا،پولیس نے معطل افسران کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیئے،پمز کےمعطل افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جارہے ہیں، تمام نامزد افسران کے بیانات بھی قلمبند کیےجائیں گے،تحقیقات وزیراعظم کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب اسلام آبادہائیکورٹ میں سانحہ پمز پرجوڈیشل انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نےدرخواست کوپہلےسےزیرِ سماعت کیس کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے وزیر اعظم کو پیش کی جانےوالی رپورٹ اورحکومت کی جانب سےکی گئی کارروائی کی تفصیلات طلب کر لیں،عدالت نےوفاق کوکیس میں تفصیلی جواب جمع کرانےکاحکم دیتےہوئےقائمہ کمیٹی صحت کی گزشتہ سال پمز سے متعلق رپورٹ پر کارروائی نہ ہونے کی وجوہات بھی طلب کرلیں۔
درخواست گزار کےوکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی صحت کے چیئرمین امجد خان نے گزشتہ سال وزیراعظم اور اسپیکر کو خط لکھا تھا تاہم اس پر عملدرآمد ہوا اور نہ کوئی ایکشن لیا گیا۔
چیف جسٹس نےریمارکس دیئےکہ اس نوعیت کی درخواست پرپہلےہی حکم دیا جاچکا ہے،اس کیس میں بھی وہی حکم ہے،مزیدسماعت ملتوی کردی گئی۔
