20 برس بعد آئی اے ای اے کا ایران کے خلاف سلامتی کونسل سے رجوع

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے معاملے پر اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ ایجنسی نے تقریباً 20 برس بعد ایران کا معاملہ سلامتی کونسل تک پہنچایا ہے۔ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے اس حوالے سے قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں ایران کے تعاون نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق ایران نے جوہری مواد سے متعلق سوالات کا مکمل جواب نہیں دیا۔ ایران نے بعض غیر اعلانیہ مقامات سے متعلق تحقیقات میں بھی تعاون نہیں کیا۔

آئی اے ای اے نے ایران میں یورینیم کے ذرات کی نشاندہی کی تھی۔ یہ ذرات ایسے مقامات سے ملے تھے جو ایران نے پہلے ظاہر نہیں کیے تھے۔ ایجنسی ان ذرات اور جوہری سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت چاہتی ہے۔ تاہم ایران نے ان معاملات پر مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے مکمل تصدیق کے لیے رسائی درکار ہے۔

ایران نے آئی اے ای اے کی کارروائی کو مسترد کیا ہے۔ تہران نے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے موجودہ علاقائی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے