ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نئی قرارداد مسترد کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قرارداد پر شدید ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی محدود ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملے ہیں۔ بقائی نے ایران کا معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کو بلاجواز قرار دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے جان بوجھ کر رسائی محدود نہیں کی۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال فوجی حملوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیا۔ بقائی نے کہا کہ ان حملوں نے معائنوں کے عمل کو متاثر کیا۔ انہوں نے آئی اے ای اے کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ایجنسی کو پہلے ان حملوں کی مذمت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کو اپنے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
بقائی نے مغربی ممالک کے مؤقف میں تضاد کی نشاندہی کی۔ انہوں نے آئی اے ای اے کی نئی قرارداد کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق مغربی ممالک اسنیپ بیک میکانزم بحال ہونے کا دعویٰ کرتے رہے۔ ایرانی ترجمان نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، روس اور چین کا مؤقف درست ثابت ہوا۔ ان کے مطابق اسنیپ بیک میکانزم حقیقت میں نافذ نہیں ہوا۔ بقائی نے مغربی قانونی مؤقف کو بھی غلط قرار دیا۔
ایرانی ترجمان نے قرارداد کی منظوری کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد اتفاق رائے سے منظور نہیں ہوئی۔ بقائی نے ووٹنگ کے عمل کو ’’ریوڑ ووٹنگ‘‘ سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق امریکا اور بعض یورپی ممالک نے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک کو حمایت پر مجبور کیا گیا۔ بقائی نے بعض ممالک کے مثبت ووٹوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
