پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اعتماد کا بحران تا حال ختم نہ ہوسکا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعلقات معمول پر آنے تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کی تجویز ہے۔
پیپلزپارٹی حکومت سے اپنے تحفظات دور نہ ہونے پر بدستور نالاں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ ایوان میں مکمل تعاون نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہے تاہم دونوں جماعتوں میں اعتماد سازی بحال کرنےکی کوششیں جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کوپی پی قیادت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور معاملات حل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، اسپیکر قومی ایاز صادق اورنائب وزیراعظم اسحاق ڈار اتحادیوں میں معاملات سدھارنے کیلئے کوشاں ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا 21 ستمبر کو متوقع اجلاس بھی اب آگے جانے کا امکان پیدا ہوگیا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعلقات معمول پر آنے تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سےقومی اسمبلی اجلاس کی مجوزہ تاریخ میں تبدیلی پرغورجاری ہے۔
پی پی سے اعتماد بحال کیے بغیر قومی اسمبلی اجلاس بلانے سے متعلق ن لیگ میں تشویش ہے، حکمران جماعت کو پیپلز پارٹی کے بغیر کورم پورا کرنا مشکل ہو گیا۔ حکومت نے پی پی قیادت سے معاملات طے کرنے کےلیے اعلیٰ سطح پررابطوں اور ملاقاتوں کا فیصلہ کیا ہے۔
