سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کے فروغ کے لیے اہم اصلاحات تجویز پر مبنی ڈرافٹ تیار کرلیا۔ ایس ای سی پی نے مجوزہ ترامیم پر اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کرلیں۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت ریئل اسٹیٹ سے آمدن اورمتعلقہ اثاثوں کی کم از کم حد 75 فیصد سے کم کرکے 65 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اسپانسرز، ڈائریکٹرز اور متعلقہ اداروں سے قرض کی مدت 24 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنے کی تجویز ہے۔
ریئل اسٹیٹ اسکیموں کی لسٹنگ کے لیے ایک سال کی اضافی مہلت دینے پر غور جاری ہے، ریئل اسٹیٹ اسکیموں کو ایک سال تک خالی زمین اور پلاٹ رکھنے کی اجازت کی تجویز ہے۔ مخصوص گروپ ٹرسٹس اور ملازمین کے فنڈز کو غیر فہرست شدہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کی اجازت کی بھی تجویز ہے۔
چیئرمین ایس ای سی پی کے مطابق سرکاری اور ترقیاتی اداروں سے جائیداد کا حصول مزید آسان بنایا جائے گا، اصلاحات سے طویل مدتی سرمایہ کاری اور شفاف ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو فروغ ملے گا۔
واضح رہے کہ ملک میں سست روی کا شکار رئیل اسٹیٹ اور محدود گہرائی رکھنے والی کیپٹل مارکیٹ کو متحرک کرنے کے لیے حکومت نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کو ایک کلیدی آلے کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
