نائن الیون کے 25 سال بعد پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی تجربہ، قربانیوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر اہم سیمینار

اسلام آباد: سینٹر فار انٹرنیشنل پیس اینڈ اسٹیبلٹی اور صنوبر انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ”نائن الیون کے پچیس سال بعد: پاکستان کا انسداد دہشت گردی کا تجربہ، چیلنجز اور آگے کا راستہ“ کے عنوان سے اہم قومی سیمینار منعقد ہوا، جس میں ملکی و بین الاقوامی امور کے ماہرین، دفاعی تجزیہ کاروں اور دانشوروں نے خطے میں بدلتی عسکری حرکیات، پاکستان کی قربانیوں اور مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔
سیمینار کی نظامت دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہر اور صنوبر انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ نے کی۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2007 کے بعد افغانستان میں شورش اپنے عروج پر پہنچی اور اسی ماحول سے کالعدم ٹی ٹی پی نے جنم لیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی جبکہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک جانب اندرونی سطح پر سخت گیر طبقات کی تنقید اور دوسری جانب امریکہ و نیٹو کی جانب سے مسلسل ”ڈو مور“ کے مطالبات کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق پاکستان بیک وقت نظریاتی، فکری اور عسکری محاذوں پر غیر معمولی چیلنجز سے دوچار رہا۔
سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی و نیٹو انخلا کے بعد وہاں چھوڑا جانے والا جدید اسلحہ غیر منظم بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف عناصر تک پہنچا، جس سے بلوچستان سمیت پاکستان کے لیے سیکیورٹی کے نئے خطرات پیدا ہوئے۔
سابق سفیر اعزاز احمد چوہدری نے نائن الیون کے بعد عالمی منظرنامے میں آنے والی پانچ بڑی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کے اتفاقِ رائے، افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی، عراق پر امریکی حملے، جنوبی ایشیا میں بھارت کے مغرب کے ساتھ بڑھتے روابط اور ”تحفظ کی ذمہ داری“ کے نظریے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغانستان کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فرنٹ لائن ریاست بنا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی جانوں اور معیشت کی ناقابل تلافی قیمت ادا کی۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصولوں کی جانب واپس آنا ہوگا۔
سینئر دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے نائن الیون کو ایک ”سٹریٹجک صدمہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر روایتی اور کمزور گروہ بھی روایتی عسکری طاقت کے مقابلے میں گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے پانچ اہم عسکری اسباق بیان کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس بذاتِ خود ایک ہتھیار ہے، جدید ہتھیار نظریے کو نشانہ نہیں بنا سکتے، اسپیشل آپریشنز فورسز غیر معمولی نتائج دے سکتی ہیں، مقامی شراکت دار رسائی فراہم کرتے ہیں اور انسدادِ شورش روایتی جنگ سے مختلف ہوتی ہے۔
سیمینار کے اختتام پر پی آئی پی ایس کے صدر عامر رانا نے دہشت گردی کے سیاسی اور فکری پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد روایتی شورش اور دہشت گردی کے درمیان فرق کی لکیریں مزید دھندلا گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے مقاصد اور حکمت عملی ان کے نظریے سے تشکیل پاتے ہیں، جبکہ موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج قابلِ اعتماد ڈیٹا کا سائنسی تجزیہ اور بروقت انٹیلی جنس کارروائی کے لیے اس کی مؤثر پراسیسنگ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے