کراچی: اپوزیشن کے شور شرابے میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا۔
وزیرداخلہ ضیا لنجار نے ایوان میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پیش کیا، اپوزیشن ارکان نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
بل میں کہا گیا ہےکہ کونسل کی مدت ختم ہونے پر میئر ہی ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات سنبھالےگا۔ نئے منتخب میئرکے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش نمائندے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کریں گے۔
ڈپٹی میئر وائس چیئرمین کونسل کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جو اجلاسوں کی صدارت کرےگا۔
یوسی چیئرمین غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی کرکے ایس بی سی اے کو اطلاع دیں گے۔ بل میں مصالحتی فورم کو بھی شامل کیا گیا ہے، 90 دن میں فورم تشکیل دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم بلدیاتی انتخابات سے بھاگ گئی، ایم کیو ایم جانتی ہے ان کی عوام میں پذیرائی نہیں ہے، ایم کیوایم نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کی منظوری پر شور شرابا کیا، عوام میں ایم کیوایم کی مقبولیت صفر ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کا اسمبلی میں رویہ منافقانہ تھا، پیپلزپارٹی کسی دباؤ میں آکر کچھ نہیں کر رہی، سندھ واحد صوبہ ہے جہاں لوکل گورنمنٹ کا نظام موجود ہے، پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے تمام احکامات کو ہوا میں اڑادیا، دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں میئر سب سے زیادہ بااختیار ہے۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ اس ایشو پر پی پی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں، بلدیاتی نظام کو سب مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، جو کلاز آج پیش کی اور منظور ہوئی وہ افسوس ناک ہے، سندھ حکومت اختیارات کی منتقلی کو تیار نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد انہوں نے اختیارات نچلی سطح پر تقسیم نہیں کیے، یہ بل فضول ہے، یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن نہ ہوں، یہ چاہتے ہیں میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر موجود رہیں، جماعت اسلامی اسے جمہوریت کا نقصان سمجھتی ہے اور اسے مسترد کرتی ہے۔
