عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے گورننس میں بہتری اور سبسڈی کے طریقہ کار سمیت مختلف قوانین میں 174 ترامیم کا مطالبہ کردیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس میں سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط اور اہداف پر بریفنگ دی۔ بتایا کہ پروگرام کے 3 جائزے مکمل ہوچکے۔ پاکستان کو اب تک 4.1 ارب ڈالر ملے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر ٹیکس رعایتیں ختم اور سپلیمنٹری گرانٹس کے اجرا پر پابندی عائد کی جا چکی۔ البتہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کے اہداف میں بڑی کامیابی نہیں ملی۔ تعلیمی اخراجات سے متعلق آئی ایم ایف کے اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے۔
سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی ڈکلیئریشن بھی کمیٹی میں زیر بحث آئی۔ سیکرٹری خزانہ کے مطابق ایف بی آر اثاثوں کی کچھ تفصیلات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرے گا۔ غیر معمولی اثاثوں کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تادیبی کارروائی کرے گا۔
حنا ربانی کھر اور نوید قمر نے افسران کے اثاثوں کی جزوی ڈیکلریشن پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ کہا پارلیمنٹرینز کو تمام اثاثے ڈکلیئر کرنا ہوتے ہیں۔ تو افسران کے کچھ اثاثے ظاہر اور کچھ پوشیدہ رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ سیکیورٹی تحفظات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ ساورن ویلتھ فنڈ ترمیمی قانون میں مشترکہ سرمایہ کاری کی اجازت کی تجویز ہے۔ اس فنڈ کو ایس ای او قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ بھی آئی ایم ایف مذاکرات میں شامل ہے۔ مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈیز ختم کی جارہی ہیں۔ مجموعی طور پر آئی ایم ایف 174 ترامیم چاہتا ہے۔ حکومت تمام ترامیم پارلیمنٹ کے سامنے رکھے گی۔
