وزیراعظم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دے دی

وزیراعظم شہبازشریف نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی غیر تسلی بخش قراردے دی۔ کہا ہم نے جن کو سونے کے چنے کھلائے انہوں نے پھر بھی ایکسپورٹ نہیں بڑھائی۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تقریب سے ویڈیو لنک خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کہا دہائیاں گزرنے کے بھی انڈسٹری نے ترقی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کو برسوں بھرپور سپورٹ اور سبسڈی دی، انڈسٹری نے دہائیاں گزرنے کے باوجود ترقی کا وعدہ پورا نہیں کیا، انڈسٹری کی پروڈکٹس کی قیمتیں بھی بڑھیں لیکن پھر بھی کارکردگی اچھی نہیں، میں کسی کو نشانہ نہیں بنارہا لیکن یہ کھلی حقیقت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیویارک میں ایم ڈی آئی ایم ایف کو ملاقات میں بتایا کہ ہماری ٹیم معاشی بہتری کیلئے بہت محنت کررہی ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر نے کمٹمنٹ کے ساتھ کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی، دعا ہے ہماری پارٹنر شپ کو اللہ تعالیٰ قیامت تک اسی طرح قائم رکھے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب یہاں بیٹھے ہیں انہوں نے ڈوبی ہوئی زمین ریکور کی، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا ہم ایک نیا پاکستان دیکھ رہے ہیں، ایم ڈی آئی ایم ایف کو بتایا یہ نیا پاکستان نہیں بلکہ ایک ٹیم نے معاشی حالات کو سدھارا ہے۔

تقریب سے خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل ختم کرکے پائیدار معاشی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔ لیکویڈیٹی کے اجراء کے ذریعے عارضی ترقی کے بجائے پائیدار ترقی پر توجہ دینا ہوگی،سب سے پہلے میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا ہے۔

وزیرخزانہ نےکہا کہ ٹیکس ہدف کم ہونے کی صورت میں تو خبربن جاتی ہے،لیکن ٹیکس ہدف حاصل ہونے کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے، پاکستان کو اب نئی معیشت 2.0 میں قدم رکھنا ہوگا، نئی معیشت صرف کرپٹو تک محدود نہیں بلکہ اس کے دیگر بھی کئی پہلو ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے