خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، بچاؤ کے لیے کیا کریں؟

موسم کی تبدیلی کے ساتھ خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی وائرس کے 100 نئے کیس رپورٹ ہوئے، صوبے سے رواں سال اب تک ڈینگی وائرس کے 2219 کیس سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اب تک سب سے زیادہ کیسز کوہاٹ سے 1347 رپورٹ ہوئے، پشاور میں 301، خیبر میں 101، بنوں میں 103 جبکہ ہری پور میں 57 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈینگی بخار مادہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی ایک عام بیماری ہے۔ ڈینگی کی سب سے اہم علامت تیز بخار کے ساتھ جسم اور پٹھوں میں درد کا ہونا ہے۔ البتہ زیادہ بیمار ہونے کی صورت میں جسم پر دھبے نمایاں ہوسکتے ہیں اور ساتھ ہی ، خون کے بہنے اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محققین کی جانب سے ڈینگی ویکسین پر کام کیا جارہا ہے مگر تاحال اسے تیار نہیں کیا جاسکا تو جن علاقوں میں یہ بیماری عام ہے وہاں مچھروں سے بچاؤ ہی تحفظ کا بہترین طریقہ ہے اور مچھروں سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ گھر پر ہی رہیں۔

اگر آپ بھی کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں یہ بیماریاں عام ہے تو اپنے گھر کو درج ذیل حفاظتی اقدامات اپنا کر ڈینگی سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

ڈینگی مچھروں کی افزائش صاف اور جمع شدہ پانی میں ہوتی ہے اس کے علاوہ خالی گملوں، اور کچرے اور کوڑے کے ڈھیر میں بھی مچھر پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے نجات حاصل کریں ۔ پانی کو جمع نہ ہونے دیں اور کچھرے کے ڈس بن کو ڈھانپ کے رکھیں۔

یاد رکھیں ڈنگی سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے پیاروں کو مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رکھیں۔ اس کے لیے حفاظتی اقدامات کے طور پر خود کو ڈھانپ کے رکھیں۔ پورے آستین والے کپڑے پہنیں ۔ مچھروں کو بھگانے والے لوشن کا استعمال کریں اور مچھر دانی کا لگائیں۔

جتنا ممکن ہوسکے صبح اور شام کے اوقات میں دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ مچھر گھر میں داخل نہ ہوں۔ البتہ دن کے اوقات میں کھڑکیاں کھولیں تاکہ سورج کی روشنی گھر میں آسکے جس سے گھر میں پہلے سے موجود مچھر باہر بھاگ سکیں۔ اگر کسی طرح مچھر گھر میں آجائیں تو مچھر کش ادویات اور اسپرئے کا استعمال کریں۔

گھر کے ہر کونے کو صاف ستھرا رکھیں ۔ گھر کی صفائی کو روزانہ کا معمول بنائیں تاکہ مچھروں کی افزائشی عمل سست ہو کر ختم ہوجائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے