بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ قرار

بجلی کی 11 تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ ہے۔ پاورسیکٹر پر مالی دباؤ کم کرنے کیلئے آپریشنل نقصانات میں کمی ناگزیر قرار دیدیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ڈسکوز کو 282 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ سبسڈی کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں مزید 143 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ خراب صورتحال میں حکومت کو سالانہ 1200 ارب روپے مالی مدد دینا پڑ سکتی ہے۔

ڈسکوز کے اخراجات، مالی نقصانات کم کرکےگردشی قرضے پرقابو پانے کی سفارش کی گئی ہے، آپریشنل اصلاحات کے بغیر سبسڈی دینے سے گردشی قرض کا مسئلہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق خسارے کا شکار ڈسکوز میں اصلاحات اور ٹیرف نظام میں بہتری ناگزیر ہے، بہتر صورتحال میں سرکلر ڈیٹ تقریبا 3،200 ارب روپے تک کم ہونے کا امکان ہے۔ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں منافع  80.5 ارب روپے رہنے کا امکان ہے، خراب صورتحال میں 140 سے 170 ارب روپے تک نقصان کا امکان ہے۔

نقصان والی ڈسکوز کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو مالی نقصانات بڑھنے کا خدشہ ہے، مالی خطرات میں خالص مالی آمدن کا ایک گنا سے کم ہونا اہم خطرہ ہے، لاگت کے مطابق وصولی کا تناسب 0.95 فیصد حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجلی ٹیرف میں اصلاحات سے پاور سیکٹر کی مالی صورتحال میں بہتری متوقع ہے، ٹیرف اصلاحات سے سالانہ تقریبا 15 ارب روپے کی بچت ممکن قرار دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق حیسکو اور پیسکو بڑے مالی خسارے والی بجلی کمپنیوں میں شامل ہیں، سیپکو کی مالی صورتحال انتہائی خراب قرار، کیسکوسب سےذیادہ خسارے میں ہے۔ کیسکو کی ہر1 روپے کے خرچ کے مقابلے میں صرف 55 پیسے وصولی، کیسکو کو ہر سہہ ماہی تقریبا 23 ارب روپے نقصان کا سامنا ہے۔ صرف سبسڈی دینے سے ڈسکوز کے مالی مسائل حل نہیں ہو رہے۔

فیسکو، ہیزکو، میپکو، گیپکو اور آئیسکو کی مالی حالت نسبتا بہتر ہے، بہتر ڈسکوز کا لاگت کے مقابلے وصولی کا تناسب 1.01 سے 1.06 گنا تک ہے، لیسکو اور ٹیکسو کو معمولی مالی نقصان کا سامنا ہے، بہتر صورتحال میں پورٹ فولیو کا منافع تقریباً دوگنا ہو کر 160 ارب تک پہنچ سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے