وزیراعلیٰ نے ایک ہفتے میں ستھرا پنجاب کے ورکرز اور مشینری کی کمی پوری کرنے، صفائی کا بیٹ سسٹم نافذ کرنے اور غیر مؤثر نجی کمپنیوں کو فارغ کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی، صفائی کی صورتحال، ویسٹ کلیکشن اور ٹرانسپورٹ فلو سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران مختلف تحصیلوں میں صفائی کی صورتحال سے متعلق رپورٹس بھی چیک کی گئیں۔
مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے قانونی راستہ نکالا جائے، کنٹریکٹرز کے ذمے واجبات کی سزا ورکرز کو نہیں دی جائے گی، اجلاس میں نادہندہ کمپنیوں سے ورکرز کے واجبات ریکور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کام نہ کرنے والی نجی کمپنیوں کو فارغ کرکے ایک ہفتے کے اندر سرکاری سطح پر متبادل صفائی آپریشن فعال کرنے کی ہدایت کی، ستھرا پنجاب کے ورکرز کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں پنجاب بھر میں ستھرا پنجاب کا بیٹ سسٹم سات روز میں نافذ کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی، ہر تحصیل میں افرادی قوت، مشینری اور فیلڈ مانیٹرنگ افسران کی کارکردگی سے متعلق ہفتہ وار تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ 80 فیصد سے کم کارکردگی دکھانے والی صفائی کمپنیوں کو وارننگ دی جائے، جبکہ 50 فیصد سے کم کارکردگی پر متعلقہ کمپنیوں کو فارغ کیا جائے، دیہی علاقوں میں کم از کم متبادل ایام میں صفائی یقینی بنانے اور کچرے کے ڈھیر اٹھانے کا حکم بھی دیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ہر تحصیل میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے متعلقہ سسٹنٹ کمشنر اور ستھرا پنجاب کے انچارج کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، ورکرز کی نگرانی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خصوصی ایپ متعارف کرانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق پنجاب کے ہر ڈویژن میں اینٹی لٹرنگ سکواڈ متحرک ہے اور اب تک 2 لاکھ 64 ہزار وزٹ کیے جاچکے ہیں، سکواڈز نے صفائی کے مقررہ ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر وارننگز جاری کرنے کے ساتھ شہریوں میں آگاہی بھی فراہم کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ضلع چکوال میں صفائی کی بہتر صورتحال پر ڈپٹی کمشنر سارہ حیات اور ان کی پوری ٹیم کو سراہا اور صوبے بھر میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
