پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے کہا ہے کہ قومی ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان ہاکی لیگ کا آغاز آئندہ سال لاہور سے ہوگا۔
پاکستان ہاکی لیگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محی الدین وانی نے کہا کہ صدارت سنبھالنے کے بعد ان کی اولین ترجیح فیڈریشن کے مالی معاملات کو مضبوط بنانا تھی۔ وہ قومی ہاکی ٹیم کو مالی وسائل کی کمی کے مسائل سے نکالنا چاہتے تھے۔
محی الدین وانی نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث پاکستان ہاکی کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت ہر کھیل کو فنڈز فراہم نہیں کر سکتی۔ اسی لیے ہاکی فیڈریشن نے نجی شعبے سے اسپانسرز بھی حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے دوران یومیہ 110 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈریشن کھلاڑیوں کی ضروریات پوری کرنے اور ہاکی کو مستحکم بنیادیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
صدر پی ایچ ایف نے کہا کہ فیڈریشن نے لڑکوں اور لڑکیوں کی جونیئر ٹیموں کو بھی بیرون ملک ٹورنامنٹس کے لیے بھیجا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے ہاکی کے جتنے ٹورنامنٹس میں شرکت کی، اتنی گزشتہ دس سال میں نہیں کی۔
محی الدین وانی نے بتایا کہ پاکستان ہاکی میں ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے۔ فیڈریشن نے تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی کوچز بھی لائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد قومی کھیل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ فیڈریشن ہاکی کے فروغ اور کھلاڑیوں کو مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
محی الدین وانی نے تصدیق کی کہ پاکستان ہاکی لیگ کا آغاز آئندہ سال لاہور سے ہوگا۔ اس لیگ کو پاکستان میں ہاکی کی سرگرمیوں کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

