کُرم میں فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

0

خیبرپختونخوا میں 20 دن سے جاری گرینڈ جرگے میں قیام امن پر بالآخر معاہدہ طے پا گیا۔۔۔ دونوں فریقین نے امن کےلئے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔۔۔

معاہدے کے تحت فریقین بنکرز مسمار کرنے اور بھاری اسلحہ صوبائی حکومت کے حوالے کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔۔

جرگہ ممبر ملک ثواب خان نے بتایا کہ فریقین اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، معاملات طے ہوگئے اور تحفظات دور ہوگئے ہیں۔

فریقین کے درمیان معاہدے کا اعلان پشاور گورنر ہاؤس میں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ فریقین 14 نکات پر رضا مند ہوگئے۔

پیش رفت کے حوالے سے ملک ثواب خان نے مزید بتایا کہ کوئی بھی فریق بغیر لائسنس کے اسلحہ نہیں رکھ سکے گا، فریقین مورچے خالی کرنے پر رضا مند ہوگئے، اسلحہ حکومتی سر پرستی میں جمع کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور جرگہ ممبر ملک سید اصغر نے کہا کہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر دیے، انہوں نے بھی تصدیق کی کہ فریقین کے درمیان طے معاہدے کا اعلان پشاور گورنر ہاؤس میں ہوگا۔

امن معاہدے کے 14 نکات

فریقین کے درمیان طے پانے والے 7 صفحات اور 14 نکات پر مشتمل معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان سیز فائر کا فیصلہ ہوگیا، مورچے ختم اور اسلحہ جمع کرایا جائے گا۔

اس میں کہا گیا کہ فریقین اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، معاہدے کے تحت فریقین ایک مہینے کے اندر بنکرز ختم کریں گے، ذیلی کمیٹی مورچوں کی مسماری کی نگرانی کرے گی۔

 سوشل میڈیا پر دونوں فریقین میں سے پروپیگنڈا کرنیوالے عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی، معاہدے کی خلاف ورزی کرنیوالے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس کے مطابق آمد و رفت کے لیے تمام راستوں اور سڑکوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، جن علاقوں سے بجلی، ٹیلیفون یاکیبل گزر چکے ہیں یا مزید گزارے جائیں گے، ان پرپابندی نہیں ہوگی۔

معاہدے کے تحت نئے روڈ کی ضرورت پڑی اور کوئی رکاوٹ پیش آئی تو فریقین مکمل تعاون کریں گے۔

امن معاہدے میں طے ہوا ہےکہ  ضلع کرم میں قیام امن کے لیےکوئی بھی اپنے مابین لڑائی کو مذہبی رنگ نہیں دےگا۔کالعدم تنظمیوں کےکام کرنے اور دفاتر کھولنے پر پابندی ہوگی۔ آمدورفت کے تمام راستوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جن علاقوں سے بجلی، ٹیلیفون یاکیبل گزرچکے ہیں یا مزیدگزارے جائیں گے ان  پرپابندی نہیں ہوگی۔ نئے روڈ کی ضرورت پڑی اورکوئی رکاوٹ پیش آئی تو فریقین مکمل تعاون کریں گے۔

امن معاہدے کے مطابق کسی بھی علاقے میں ناخوشگوار  واقعہ رونما ہوا تو فریقین قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ اگر  دو گاؤں میں تنازع پیدا ہوا تو ہمسایہ گاؤں کی امن کمیٹی تصفیہ کرےگی۔ تخریب کاری میں ملوث  افراد کی جلد از جلد گرفتاری ضلعی پولیس اور ریاستی ادارے کریں گے۔ تخریب کاری میں ملوث افراد کی گرفتاری میں مسلک یا قبیلہ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالےگا۔

امن معاہدے میں طے ہوا ہےکہ  نئے بنکرز کی تعمیر  پر  پابندی ہوگی اور  پہلے سے موجود بنکرز  ایک ماہ کے اندر ختم کیے جائیں گے۔ بنکرز ختم کرنےکے بعد جو فریق لشکر کشی کرےگا اسے دہشت گرد قرار دیا جائےگا۔ اگر علاقہ مشران فریقین کے درمیان کسی مسئلےکا تصفیہ نہ کرسکے تو کرم گرینڈ امن جرگہ فیصلہ کرےگا۔ فریقین میں فائر بندی دائمی ہوگی، فریقین بھاری اسلحہ حکومت کے پاس جمع کرائیں گے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.