ملک میں مارشل لاء لگانے پر جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو گرفتار کر لیا گیا

0

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو بدھ کے روز بغاوت اور مارشل لاء نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے الزامات پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک سابق صدر کو ایسی سنگین وجوہات پر حراست میں لیا گیا ہو۔

سابق صدر یون سک یول، جو 2022 میں قدامت پسند پیپلز پاور پارٹی (PPP) کی جانب سے منتخب ہوئے تھے، نے مبینہ طور پر گزشتہ ماہ مارشل لاء لگانے کی کوشش کی تھی۔ یہ اقدام ایک غیر متوقع سیاسی بحران کا باعث بنا اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق صدر یون سک یول نے اپنی گرفتاری سے قبل صدارتی سیکیورٹی سروس (PSS) کے وفادار افسران کے ذریعے سیول میں اپنی رہائش گاہ کو مضبوط قلعے میں تبدیل کر لیا تھا۔3 جنوری کو حکام نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی رہائش گاہ کے گرد خاردار تاروں اور حفاظتی رکاوٹوں کے باعث ناکام رہے۔

بدھ کی صبح پولیس اور کرپشن انویسٹی گیشن آفس کے تفتیش کاروں نے رہائش گاہ کو گھیر کر پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد یون کو گرفتار کر لیا۔

اپنی گرفتاری سے قبل ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام میں سابق صدر یون سک یول نے کہاکہ”میں نے بدعنوانی کے تحقیقاتی دفتر کو جواب دینے کا فیصلہ کیا… تاکہ کسی بھی بدقسمتی سے خونریزی کو روکا جا سکے۔”انہوں نے تحقیقات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا، لیکن مزید تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔

توقع ہے کہ یون کے مقدمے کی سماعت جلد شروع ہو گی، جو جنوبی کوریا کی سیاست میں دور رس اثرات مرتب کرے گی۔
یہ کیس نہ صرف یون کی سیاسی وراثت کو شکل دے گا بلکہ جنوبی کوریا کے جمہوری فریم ورک کی پائیداری اور آئین کی بالادستی کا بھی امتحان ہوگا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.