ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً تمام نئی غیر ملکی امداد کی فنڈنگ کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، سوائے اسرائیل، مصر، اور چند ہنگامی خوراکی پروگراموں کے۔ یہ فیصلہ امریکی خارجہ پالیسی کے منظرنامے میں ایک بڑا اقدام ہے، جس کا اثر دنیا بھر کے امدادی اور ترقیاتی منصوبوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ نئی غیر ملکی امداد کی تمام ذمہ داریوں کو "قانون کی طرف سے زیادہ سے زیادہ حد تک” معطل کر دیا گیا ہے۔اس فیصلے سے دنیا بھر میں جاری ترقیاتی، صحت اور انسانی امدادی منصوبے متاثر ہوں گے۔
یوکرین کو ایسی چھوٹ نہیں دی گئی، جو روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی حمایت پر سوالات اٹھاتی ہے۔یوکرینی امداد کی معطلی سے اس ملک کی جنگی کوششوں پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو تین ماہ کی نظرثانی مدت کے دوران مختلف امدادی منصوبوں کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ان کی بحالی، ترمیم، یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس فیصلے سے امریکی غیر ملکی امداد کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے امکانات ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔