سینیٹر فیصل ووڈا نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کے لیے ایک ہزار نئی گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ فیصل ووڈا نے ایف بی آر کے 54 افسران کی کرپشن کے ثبوت بھی کمیٹی کے سامنے رکھ دئیے
سینیٹر فیصل واوڈا کا ایف بی آر کے لیے ایک ہزار نئی گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ اٹھانے پر قتل کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف،،،، ایف بی آر کے 54 کرپٹ افسران کی فہرست بھی ثبوتوں کیساتھ پیش ،،،کمیٹی نے سینیٹر کو دھمکی کا معاملہ تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ۔۔
چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی فنانس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔۔۔سینیٹر فیصل ووڈا نے کمیٹی کو بتایاکہ ایف بی آر کی گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ اٹھانے پر میرا کاروبار تباہ کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر کے حاضر سروس 54 کرپٹ افسران کی کرپشن کے ثبوت لایاہوں۔۔۔ ایف بی آر کی اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے۔۔۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ سینیٹر کے الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔۔۔ تحقیقات مکمل ہونے تک ایف بی آر نئی گاڑیاں نہیں خریدے گا۔۔۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سینیٹر کو دھمکی دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے ۔۔۔اس معاملے کو تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے۔۔۔کمیٹی نے ایف بی آر کی گاڑیوں خریداری کا معاملہ تحقیقات مکمل ہونے تک منجمند کر دیا۔۔۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ ایف بی آر پالیسی ونگ کو وزارت خزانہ کے ماتحت کیا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس وصولی تک محدود کر دیا جائے گا۔۔