آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، ایران نے تین بحری جہاز قبضے میں لے لیے

Tensions rise in the Strait of Hormuz, Iran seizes two ships

Iran نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ Strait of Hormuz میں تین بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے صدر Donald Trump کی جانب سے حملوں کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب نے مبینہ سمندری خلاف ورزیوں پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں جہازوں کو تحویل میں لے کر ایرانی ساحلوں کی جانب منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ جنگی کشیدگی کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے اس نوعیت کی براہِ راست کارروائی کی ہے۔

اس سے قبل ایک برطانوی بحری سلامتی ادارے نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی دی تھیں، جس نے خطے میں خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی ثالثی کی درخواست پر ایران پر حملے عارضی طور پر روکے گئے ہیں تاکہ مذاکرات کا راستہ کھل سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ کی جانب سے ایران کی سمندری تجارت پر ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکا کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک ایرانی مال بردار جہاز پر فائرنگ اور ایک بڑے آئل ٹینکر پر قبضے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے ایران نے جنگی اقدام قرار دیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق جب تک ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہے گی، جس کے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ادھر Pakistan اس تنازع میں ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیش رفت کے باعث بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔

نیم سرکاری ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب نے “یوفوریا” نامی جہاز پر حملہ کیا۔

ایرانی ذرائع، جن میں نور نیوز، فارس اور مہر شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز ایرانی ساحل کے قریب “پھنس” گیا تھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz عالمی توانائی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی منڈیوں اور خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے