حماس کا اسرائیل کے تخفیف اسلحہ مطالبے پر انکار، قیدیوں کے تبادلے کے لیے نئی تجویز دے دی
حماس نے اسرائیل کے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں غزہ کی پٹی سے اسلحہ ختم کرنے کا کہا گیا تھا، اور اسے ناقابل قبول شرط قرار دیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ قومی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے اور اسرائیل کے دباؤ میں کوئی یکطرفہ اقدام ممکن نہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ "مضحکہ خیز نفسیاتی جنگ” ہے اور گروپ کسی بھی واپسی یا تخفیف اسلحہ کے لیے تیار نہیں ہے۔
🔹 حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
🔹 تنظیم کا مؤقف ہے کہ قومی مفاد کے مطابق ہی غزہ کا مستقبل طے ہوگا۔
🔹 مذاکرات میں قیدیوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حماس نے قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں:
✅ غزہ کے تمام اسیر فلسطینیوں کو ایک ہی مرحلے میں رہا کرنے کی تجویز۔
✅ حماس کی جانب سے ثالثوں کی درخواست پر یرغمالیوں کی رہائی کی تعداد تین سے بڑھا کر چھ کر دی گئی۔
✅ اسرائیل کی جانب سے توقع ہے کہ عمر قید یا طویل سزا کاٹنے والے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
یہ مذاکرات مصر اور قطر کی ثالثی میں جاری ہیں، جنہیں کشیدگی میں کمی اور طویل مدتی جنگ بندی کی راہ میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اسرائیل نے ابھی تک حماس کے نئے مطالبات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، اور فریقین کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔